چنئی،23جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)تمل ناڈو میں جلی کٹو کی حمایت میں جاری احتجاج مزیدپرتشدد ہو گیا ہے۔پولیس کارروائی سے ناراض مظاہرین نے پہلے آئس ہاؤس پولیس اسٹیشن کے باہر جم کر ہنگامہ کیا۔مظاہرین نے تھانے کے باہر کھڑی گاڑیوں میں آگ بھی لگائی اور پولیس والوں پر سنگ باری بھی کی گئی، جس میں 20پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔وہیں کویبٹور کے گاندھی پورم جنکشن کے پاس طالب علم گروپوں کے مظاہرے میں بھی تشدد ہوا، جس میں پانچ طالب علم زخمی ہو گئے اور ان کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ جلی کٹو پر لگی روک ہٹانے کے لئے آرڈیننس لانے کے بعد بھی لوگ گزشتہ 6-7دنوں سے مرینا بیچ پر جمے ہوئے ہیں لیکن پیر کی صبح پولیس کی طرف سے مظاہرہ ختم کرنے کا قائل کرنے کی کوشش کے بعد بھی جب وہ نہیں مانے تو پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا،لاٹھی چارج میں کئی مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔چنئی کے علاوہ مدری، کویبٹور اور ترچی سے بھی مظاہرین کو زبردستی ہٹایا جا رہا ہے۔وہیں پولیس نے مرینا بیچ کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیئے ہیں،جبکہ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جلی کٹو پر مستقل حل ہو۔ان کا کہنا ہے کہ یہ آرڈیننس تو 6 ماہ بعد رد ہو جائے گا، اس لئے حکومت اس پر ایک مستقل قانون بنائے۔
مظاہرین پر لاٹھی چارج کے خلاف طالب علموں۔نوجوانوں کے غصہ کے علاوہ اسمبلی میں سیاست داں بھی ناراض رہے۔ایسے میں ڈی ایم کے لیڈران نے تو صبح تمل ناڈو اسمبلی کی بحث سے واک آؤٹ کر گئے۔جمہوری طور پر احتجاجی مظاہرہ کر رہے لوگوں کو زبردستی اتارنے کے معاملے پر ڈی ایم کے ایگزیکٹو صدر ایم کے سٹالن نے حکومت کی مذمت کی۔دوسری طرف سینئر صحافی راج گوپالن نے مرینا بیچ پر پولیس کی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک میں ماؤنواز عناصر کے گھسنے کا خدشہ ہے، تبھی معاملہ پرامن نہیں ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ راج گوپالن نے یہ بھی خبردار کیا کہ تمل ناڈو کی سر حد سری لنکا سے منسلک ہے اور اگر پولیس تحریک کو ختم نہیں کرتی، تو حالات بے قابو ہو سکتے ہیں۔